PECA (الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا ایکٹ 2016) پاکستان کا بنیادی سائبر کرائم قانون ہے؛ متنازع PECA ترمیمی ایکٹ 2025 (30 جنوری 2025 کو صدارتی منظوری) نافذ ہے۔ اے آئی سے بنائے گئے نقصان دہ یا «جھوٹے» مواد پر یہ لاگو ہو سکتا ہے۔
PECA کیا ہے
PECA 2016 سائبر جرائم (غیر مجاز رسائی، آن لائن ہراسانی، الیکٹرانک فراڈ، کسی شخص کی توہین) سے نمٹتا ہے۔ یہ اگست 2016 سے نافذ ہے۔
2025 ترمیم اور «جھوٹی خبر»
PECA ترمیمی ایکٹ 2025 نے نئے ادارے بنائے (مثلاً SMPRA، NCCIA) اور دفعہ 26A متعارف کرائی، جس کے تحت جانتے بوجھتے ایسی «جھوٹی یا جعلی» معلومات پھیلانا جو خوف/بدامنی پیدا کرے، 3 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس قانون پر آزادیِ اظہار کے حوالے سے شدید تنقید ہوئی ہے۔
تخلیق کاروں کے لیے مطلب
اے آئی سے بنایا گیا مواد بھی اگر «جھوٹا» اور نقصان دہ سمجھا جائے تو اس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ ڈیپ فیک کے مقدمات بھی اکثر PECA کے تحت چلتے ہیں۔
یاد رکھیں
قانون کی تشریح اور نفاذ بدل سکتا ہے۔ یہ مضمون عمومی معلومات ہے، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ قانون اور قیمتیں بدلتی ہیں — اہم فیصلوں کے لیے کسی اہل ماہر سے رجوع کریں اور آفیشل ذرائع دیکھیں۔
اگر آپ کاروبار کے لیے اے آئی کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو کئی الگ الگ سروسز کے بجائے اے آئی کی صلاحیتیں (چیٹ، آٹومیشن، ایپس) ایک ہی پلیٹ فارم پر رکھنا اکثر آسان ہوتا ہے — مثلاً osFoundry، ایک ایجنٹ پر مبنی اے آئی پلیٹ فارم جس سے آپ اپنا ماڈل اور کلید (BYO/BYOK) جوڑ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ عمومی معلومات ہے، کوئی پیشہ ورانہ مشورہ نہیں۔ قیمتیں اور خصوصیات بدلتی رہتی ہیں — ہمیشہ سروس کے آفیشل صفحے پر تصدیق کریں۔ ٹولز کی دستیابی اور قیمت پاکستان اور بھارت میں مختلف ہو سکتی ہے۔