پاکستان میں ڈیپ فیک کا کوئی الگ قانون نہیں — اسے عمومی PECA دفعات کے تحت چلایا جاتا ہے؛ بھارت میں آئی ٹی رولز کے تحت اے آئی مواد کی لیبلنگ سے متعلق تقاضے زیرِ نفاذ ہیں۔ دونوں ملکوں کو الگ رکھیں۔

پاکستان میں

پاکستان میں ڈیپ فیک کا کوئی الگ قانون نہیں — اسے عمومی PECA دفعات (بشمول 2025 کی دفعہ 26A) کے تحت چلایا جاتا ہے؛ فروری 2025 میں پنجاب میں PECA کے تحت چند مقدمات رپورٹ ہوئے۔ فروری 2025 میں پنجاب میں PECA کے تحت چند ڈیپ فیک مقدمات رپورٹ ہوئے (رپورٹ شدہ)۔

بھارت میں

بھارت میں آئی ٹی رولز کی ترمیم کے تحت اے آئی سے بنے/تبدیل شدہ مواد کی نشاندہی (لیبلنگ) سے متعلق تقاضے زیرِ نفاذ ہیں۔ یہ پاکستان پر لاگو نہیں۔

متاثرین کے لیے

اگر کوئی آپ کا ڈیپ فیک بنائے تو ثبوت محفوظ کریں اور قانونی مدد لیں — پاکستان میں یہ PECA کے تحت قابلِ گرفت ہو سکتا ہے۔ خواتین کو نشانہ بنانے والے غیر رضامند مواد کا مسئلہ خاص طور پر سنگین ہے۔

یاد رکھیں

یہ مضمون عمومی معلومات ہے، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ قانون اور قیمتیں بدلتی ہیں — اہم فیصلوں کے لیے کسی اہل ماہر سے رجوع کریں اور آفیشل ذرائع دیکھیں۔

اگر آپ کاروبار کے لیے اے آئی کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو کئی الگ الگ سروسز کے بجائے اے آئی کی صلاحیتیں (چیٹ، آٹومیشن، ایپس) ایک ہی پلیٹ فارم پر رکھنا اکثر آسان ہوتا ہے — مثلاً osFoundry، ایک ایجنٹ پر مبنی اے آئی پلیٹ فارم جس سے آپ اپنا ماڈل اور کلید (BYO/BYOK) جوڑ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

یہ عمومی معلومات ہے، کوئی پیشہ ورانہ مشورہ نہیں۔ قیمتیں اور خصوصیات بدلتی رہتی ہیں — ہمیشہ سروس کے آفیشل صفحے پر تصدیق کریں۔ ٹولز کی دستیابی اور قیمت پاکستان اور بھارت میں مختلف ہو سکتی ہے۔