پاکستان میں 2026 تک کوئی نافذ العمل، پابند اے آئی قانون نہیں ہے۔ قومی اے آئی پالیسی (30 جولائی 2025 کو منظور) اور اسلام آباد اے آئی اعلامیہ (20 فروری 2026) موجود ہیں، مگر یہ پالیسی/اعلامیہ ہیں، قانون نہیں۔
موجودہ صورتحال
وفاقی کابینہ نے 30 جولائی 2025 کو قومی اے آئی پالیسی 2025 منظور کی (چھ ستونوں پر مبنی، 2030 تک تقریباً 10 لاکھ اے آئی ماہرین کی تربیت جیسے اہداف)۔ 20 فروری 2026 کو «اسلام آباد اے آئی اعلامیہ» اپنایا گیا۔ مگر یہ دونوں غیر پابند پالیسی دستاویزات ہیں۔
کوئی «اے آئی ایکٹ» نہیں
پاکستان میں ابھی کوئی پابند اے آئی قانون نہیں؛ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کو ایک نگران فریم ورک اور قانونی ڈھانچہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے — یعنی پابند قواعد ابھی زیرِ تشکیل ہیں۔
متعلقہ قوانین
اے آئی سے جڑے معاملات فی الحال موجودہ قوانین کے تحت آتے ہیں — جیسے PECA (سائبر کرائم) اور (مسودہ) ڈیٹا تحفظ بل۔ یورپی GDPR یا «اے آئی ایکٹ» پاکستان پر لاگو نہیں ہوتے۔
یاد رکھیں
یہ صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے۔ یہ مضمون عمومی معلومات ہے، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ قانون اور قیمتیں بدلتی ہیں — اہم فیصلوں کے لیے کسی اہل ماہر سے رجوع کریں اور آفیشل ذرائع دیکھیں۔
اگر آپ کاروبار کے لیے اے آئی کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو کئی الگ الگ سروسز کے بجائے اے آئی کی صلاحیتیں (چیٹ، آٹومیشن، ایپس) ایک ہی پلیٹ فارم پر رکھنا اکثر آسان ہوتا ہے — مثلاً osFoundry، ایک ایجنٹ پر مبنی اے آئی پلیٹ فارم جس سے آپ اپنا ماڈل اور کلید (BYO/BYOK) جوڑ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ عمومی معلومات ہے، کوئی پیشہ ورانہ مشورہ نہیں۔ قیمتیں اور خصوصیات بدلتی رہتی ہیں — ہمیشہ سروس کے آفیشل صفحے پر تصدیق کریں۔ ٹولز کی دستیابی اور قیمت پاکستان اور بھارت میں مختلف ہو سکتی ہے۔